• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

صحيح البخاري - مولانا محمد داؤد راز رحمہ اللہ - جلد 2 - احادیث ٩٤٢ سے ١٨٩٠

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
76- بَابُ الصَّدَقَةِ قَبْلَ الْعِيدِ:
باب: صدقہ فطر نماز عید سے پہلے ادا کرنا

حدیث نمبر: 1509
حَدَّثَنَا آدَمُ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،‏‏‏‏"أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِزَكَاةِ الْفِطْرِ قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الصَّلَاةِ".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ ہم سے حفص بن میسرہ نے بیان کیا ' انہوں نے کہا کہ مجھ سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا ' ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر نماز (عید)کے لیے جانے سے پہلے پہلے نکالنے کا حکم دیا تھا۔

حدیث نمبر: 1510
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زَيْدِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ "كُنَّا نُخْرِجُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ"، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ:‏‏‏‏ وَكَانَ طَعَامَنَا الشَّعِيرُ وَالزَّبِيبُ وَالْأَقِطُ وَالتَّمْرُ.
ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا ' انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوعمر حفص بن میسرہ نے بیان کیا ' ان سے زید بن اسلم نے بیان کیا ' ان سے عیاض بن عبداللہ بن سعد نے ' ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عیدالفطر کے دن (کھانے کے غلہ سے) ایک صاع نکالتے تھے۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہمارا کھانا (ان دنوں) جَو، زبیب، پنیر اور کھجور تھا۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
77- بَابُ صَدَقَةِ الْفِطْرِ عَلَى الْحُرِّ وَالْمَمْلُوكِ:
باب: صدقہ فطر آزاد اور غلام پر واجب ہونا
وَقَالَ الزُّهْرِيُّ فِي الْمَمْلُوكِينَ لِلتِّجَارَةِ يُزَكَّى فِي التِّجَارَةِ وَيُزَكَّى فِي الْفِطْرِ.
اور زہری نے کہا جو غلام لونڈی سوداگری کا مال ہوں تو ان کی سالانہ زکوٰۃ بھی دی جائے گی اور ان کی طرف سے صدقہ فطر بھی ادا کیا جائے۔

حدیث نمبر: 1511
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ "فَرَضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ أَوْ قَالَ:‏‏‏‏ رَمَضَانَ عَلَى الذَّكَرِ وَالْأُنْثَى وَالْحُرِّ وَالْمَمْلُوكِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَعَدَلَ النَّاسُ بِهِ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ"، ‏‏‏‏‏‏فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُعْطِي التَّمْرَ فَأَعْوَزَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنَ التَّمْرِ فَأَعْطَى شَعِيرًا، ‏‏‏‏‏‏فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُعْطِي عَنِ الصَّغِيرِ،‏‏‏‏ وَالْكَبِيرِ حَتَّى إِنْ كَانَ لِيُعْطِي عَنْ بَنِيَّ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُعْطِيهَا الَّذِينَ يَقْبَلُونَهَا، ‏‏‏‏‏‏وَكَانُوا يُعْطُونَ قَبْلَ الْفِطْرِ بِيَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ. قال ابوعبدالله بني يعني بني نافع قال کانوا يعطون ليجمع لاللفقراء.
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا ' انہوں نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ' انہوں نے کہا کہ ہم سے ایوب نے بیان کیا ' ان سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر یا یہ کہا کہ صدقہ رمضان مرد، عورت، آزاد اور غلام (سب پر) ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو فرض قرار دیا تھا۔ پھر لوگوں نے آدھا صاع گیہوں اس کے برابر قرار دے لیا۔ لیکن ابن عمر رضی اللہ عنہما کھجور دیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ مدینہ میں کھجور کا قحط پڑا تو آپ نے جو صدقہ میں نکالا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما چھوٹے بڑے سب کی طرف سے یہاں تک کہ میرے بیٹوں کی طرف سے بھی صدقہ فطر نکالتے تھے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما صدقہ فطر ہر فقیر کو جو اسے قبول کرتا، دے دیا کرتے تھے۔ اور لوگ صدقہ فطر ایک یا دو دن پہلے ہی دے دیا کرتے تھے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا میرے بیٹوں سے نافع کے بیٹے مراد ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا وہ عید سے پہلے جو صدقہ دے دیتے تھے تو اکٹھا ہونے کے لیے نہ فقیروں کے لیے (پھر وہ جمع کر کے فقراء میں تقسیم کر دیا جاتا)۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
78- بَابُ صَدَقَةِ الْفِطْرِ عَلَى الصَّغِيرِ وَالْكَبِير
باب: صدقہ فطر بڑوں اور چھوٹوں پر واجب ہے
اور ابوعمرو نے بیان کیا کہ عمر ' علی ' ابن عمر ' جابر ' عائشہ ' طاؤس ' عطاء اور ابن سیرین رضی اللہ عنہم کا خیال یہ تھا کہ یتیم کے مال سے بھی زکوٰۃ دی جائے گی۔ اور زہری دیوانے کے مال سے زکوٰۃ نکالنے کے قائل تھے۔

حدیث نمبر: 1512
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَحْيَى ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ "فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ عَلَى الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ وَالْحُرِّ وَالْمَمْلُوكِ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا ' انہوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ قطان نے عبیداللہ عمری کے واسطے سے بیان کیا ' انہوں نے کہا کہ مجھ سے نافع نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاع جَو یا ایک صاع کھجور کا صدقہ فطر، چھوٹے، بڑے، آزاد اور غلام سب پر فرض قرار دیا۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
كتاب الحج

کتاب حج کے مسائل کا بیان

1- بَابُ وُجُوبِ الْحَجِّ وَفَضْلِهِ:
باب: حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
وَقَوْلِ اللَّهِ:‏‏‏‏ وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلا وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ سورة آل عمران آية 97.
اور اللہ پاک نے (سورۃ آل عمران میں) فرمایا لوگوں پر فرض ہے کہ اللہ کے لیے خانہ کعبہ کا حج کریں جس کو وہاں تک راہ مل سکے۔ اور جو نہ مانے (اور باوجود قدرت کے حج کو نہ جائے) تو اللہ سارے جہاں سے بےنیاز ہے۔

حدیث نمبر: 1513
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ "كَانَ الْفَضْلُ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَجَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ فَجَعَلَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا وَتَنْظُرُ إِلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْرِفُ وَجْهَ الْفَضْلِ إِلَى الشِّقِّ الْآخَرِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ فِي الْحَجِّ، ‏‏‏‏‏‏أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَثْبُتُ عَلَى الرَّاحِلَةِ أَفَأَحُجُّ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ وَذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے خبر دی انہیں ابن شہاب نے، انہیں سلیمان بن یسار نے، اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ فضل بن عباس (حجۃ الوداع میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سواری کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے کہ قبیلہ خثعم کی ایک خوبصورت عورت آئی۔ فضل اس کو دیکھنے لگے وہ بھی انہیں دیکھ رہی تھی۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فضل رضی اللہ عنہ کا چہرہ بار بار دوسری طرف موڑ دینا چاہتے تھے۔ اس عورت نے کہا یا رسول اللہ! اللہ کا فریضہ حج میرے والد کے لیے ادا کرنا ضروری ہو گیا ہے۔ لیکن وہ بہت بوڑھے ہیں اونٹنی پر بیٹھ نہیں سکتے۔ کیا میں ان کی طرف سے حج(بدل) کر سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں۔ یہ حجتہ الوداع کا واقعہ تھا۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
2- بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {يَأْتُوكَ رِجَالاً وَعَلَى كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ لِيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ}:
باب: اللہ پاک کا سورۃ الحج میں یہ ارشاد کہ لوگ پیدل چل کر تیرے پاس آئیں اور دبلے اونٹوں پر دور دراز راستوں سے اس لیے کہ دین اور دنیا کے فائدے حاصل کریں
‏‏‏‏فِجَاجًا‏‏‏‏ الطُّرُقُ الْوَاسِعَةُ.
(امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا سورۃ نوح میں جو) «فجاجا‏» کا لفظ آیا ہے اس کے معنی کھلے اور کشادہ راستے کے ہیں۔

حدیث نمبر: 1514
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يُونُسَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ "رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْكَبُ رَاحِلَتَهُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يُهِلُّ حَتَّى تَسْتَوِيَ بِهِ قَائِمَةً".
ہم سے احمد بن عیسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عبداللہ بن وہب نے خبر دی، انہیں یونس نے، انہیں بن شہاب نے کہ سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی، ان سے عبداللہ بن عمر نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ذی الحلیفہ میں دیکھا کہ اپنی سواری پر چڑھ رہے ہیں۔ پھر جب وہ سیدھی کھڑی ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لبیک کہا۔

حدیث نمبر: 1515
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ،‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعَ عَطَاءً يُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏"أَنَّ إِهْلَالَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ حِينَ اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ"،‏‏‏‏ رَوَاهُ أَنَسٌ ، ‏‏‏‏‏‏ وَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں ولید بن مسلم نے خبر دی، کہا کہ ہم سے امام اوزاعی نے بیان کیا، انہوں نے عطاء بن ابی رباح سے سنا، وہ جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ سے احرام باندھا جب سواری آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر سیدھی کھڑی ہو گئی۔ ابراہیم بن موسیٰ کی یہ حدیث ابن عباس اور انس رضی اللہ عنہم سے بھی مروی ہے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
3- بَابُ الْحَجِّ عَلَى الرَّحْلِ:
باب: پالان پر سوار ہو کر حج کرنا

حدیث نمبر: 1516
وَقَالَ أَبَانُ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ،‏‏‏‏ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ،‏‏‏‏ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مَعَهَا أَخَاهَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَأَعْمَرَهَا مِنَ التَّنْعِيمِ وَحَمَلَهَا عَلَى قَتَبٍ،‏‏‏‏ وَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:‏‏‏‏ شُدُّوا الرِّحَالَ فِي الْحَجِّ فَإِنَّهُ أَحَدُ الْجِهَادَيْنِ.
اور ابان نے کہا ہم سے مالک بن دینار نے بیان کیا، ان سے قاسم بن محمد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ان کے بھائی عبدالرحمٰن کو بھیجا اور انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو تنعیم سے عمرہ کرایا اور پالان کی پچھلی لکڑی پر ان کو بٹھا لیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حج کے لیے پالانیں باندھو کیونکہ یہ بھی ایک جہاد ہے۔

حدیث نمبر: 1517
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ "حَجَّ أَنَسٌ عَلَى رَحْلٍ وَلَمْ يَكُنْ شَحِيحًا، ‏‏‏‏‏‏وَحَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّ عَلَى رَحْلٍ وَكَانَتْ زَامِلَتَهُ".
محمد بن ابی بکر نے بیان کیا کہ ہم سے زید بن زریع نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عزرہ بن ثابت نے بیان کیا، ان سے ثمامہ بن عبداللہ بن انس نے بیان کیا کہ انس رضی اللہ عنہ ایک پالان پر حج کے لیے تشریف لے گئے اور آپ بخیل نہیں تھے۔ آپ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی پالان پر حج کے لیے تشریف لے گئے تھے، اسی پر آپ کا اسباب بھی لدا ہوا تھا۔

حدیث نمبر: 1518
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَيْمَنُ بْنُ نَابِلٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهَا قَالَتْ:‏‏‏‏ "يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏اعْتَمَرْتُمْ وَلَمْ أَعْتَمِرْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏اذْهَبْ بِأُخْتِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَعْمِرْهَا مِنَ التَّنْعِيمِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَحْقَبَهَا عَلَى نَاقَةٍ فَاعْتَمَرَتْ".
ہم سے عمرو بن علی فلاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ایمن بن نابل نے بیان کیا۔ کہا کہ ہم سے قاسم بن محمد نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ انھوں نے کہا یا رسول اللہ! آپ لوگوں نے تو عمرہ کر لیا لیکن میں نہ کر سکی۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عبدالرحمٰن اپنی بہن کو لے جا اور انہیں تنعیم سے عمرہ کرا لا۔ چنانچہ انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو اپنے اونٹ کے پیچھے بٹھا لیا اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے عمرہ ادا کیا۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
4- بَابُ فَضْلِ الْحَجِّ الْمَبْرُورِ:
باب: حج مبرور کی فضیلت کا بیان

حدیث نمبر: 1519
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ "سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ، ‏‏‏‏‏‏قِيلَ:‏‏‏‏ ثُمَّ مَاذَا ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ جِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قِيلَ:‏‏‏‏ ثُمَّ مَاذَا ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَجٌّ مَبْرُورٌ".
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے زہری نے بیان کیا، ان سے سعید بن مسیب نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا کہ کون سا کام بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا۔ پوچھا گیا کہ پھر اس کے بعد؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔ پھر پوچھا گیا کہ پھر اس کے بعد؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حج مبرور۔

حدیث نمبر: 1520
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَأُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهَا قَالَتْ:‏‏‏‏ "يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏نَرَى الْجِهَادَ أَفْضَلَ الْعَمَلِ، ‏‏‏‏‏‏أَفَلَا نُجَاهِدُ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏لَكِنَّ أَفْضَلَ الْجِهَادِ حَجٌّ مَبْرُورٌ".
ہم سے عبدالرحمٰن بن مبارک نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے خالد بن عبداللہ طحان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں حبیب بن ابی عمرہ نے خبر دی، انہیں عائشہ بنت طلحہ نے اور انہیں ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ! ہم دیکھتے ہیں کہ جہاد سب نیک کاموں سے بڑھ کر ہے۔ پھر ہم بھی کیوں نہ جہاد کریں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں بلکہ سب سے افضل جہاد حج ہے جو مبرور ہو۔

حدیث نمبر: 1521
حَدَّثَنَا آدَمُ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سَيَّارٌ أَبُو الْحَكَمِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ "مَنْ حَجَّ لِلَّهِ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سیارابوالحکم نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابو حزم سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے اللہ کے لیے اس شان کے ساتھ حج کیا کہ نہ کوئی فحش بات ہوئی اور نہ کوئی گناہ تو وہ اس دن کی طرح واپس ہو گا جیسے اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
5- بَابُ فَرْضِ مَوَاقِيتِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ:
باب: حج اور عمرہ کی میقاتوں کا بیان

حدیث نمبر: 1522
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ أَتَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي مَنْزِلِهِ وَلَهُ فُسْطَاطٌ وَسُرَادِقٌ، ‏‏‏‏‏‏فَسَأَلْتُهُ مِنْ أَيْنَ يَجُوزُ أَنْ أَعْتَمِرَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ "فَرَضَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا، ‏‏‏‏‏‏وَلِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَلِأَهْلِ الشَّأْمِ،‏‏‏‏ الْجُحْفَةَ".
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے زہیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے زید بن جبیر نے بیان کیا کہ وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی قیام گاہ پر حاضر ہوئے۔ وہاں قنات کے ساتھ شامیانہ لگا ہوا تھا (زید بن جبیر نے کہا کہ) میں نے پوچھا کہ کس جگہ سے عمرہ کا احرام باندھنا چاہئے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد والوں کے لیے قرن، مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ اور شام والوں کے لیے حجفہ مقرر کیا ہے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
6- بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى}:
باب: فرمان باری تعالیٰ کہ توشہ ساتھ میں لے لو اور سب سے بہتر توشہ تقویٰ ہے

حدیث نمبر: 1523
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بِشْرٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ وَرْقَاءَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ "كَانَ أَهْلُ الْيَمَنِ يَحُجُّونَ وَلَا يَتَزَوَّدُونَ وَيَقُولُونَ:‏‏‏‏ نَحْنُ الْمُتَوَكِّلُونَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا قَدِمُوا مَكَّةَ سَأَلُوا النَّاسَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى:‏‏‏‏ وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى سورة البقرة آية 197"، ‏‏‏‏‏‏رَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرٍو ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَمُرْسَلًا.
ہم سے یحییٰ بن بشر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شبابہ بن سوار نے بیان کیا، ان سے ورقاء بن عمرو نے، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے عکرمہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ یمن کے لوگ راستہ کا خرچ ساتھ لائے بغیر حج کے لیے آ جاتے تھے۔ کہتے تو یہ تھے کہ ہم توکل کرتے ہیں لیکن جب مکہ آتے تو لوگوں سے مانگنے لگتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور توشہ لے لیا کرو کہ سب سے بہتر توشہ تو تقویٰ ہی ہے۔ اس کو ابن عیینہ نے عمرو سے بواسطہ عکرمہ مرسلاً نقل کیا ہے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
7- بَابُ مُهَلِّ أَهْلِ مَكَّةَ لِلْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ:
باب: مکہ والے حج اور عمرے کا احرام کہاں سے باندھیں

حدیث نمبر: 1524
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ "إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَّتَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَلِأَهْلِ الشَّأْمِ الْجُحْفَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنَ الْمَنَازِلِ، ‏‏‏‏‏‏وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ هُنَّ لَهُنَّ وَلِمَنْ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِهِنَّ مِمَّنْ أَرَادَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ كَانَ دُونَ ذَلِكَ فَمِنْ حَيْثُ أَنْشَأَ حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ مِنْ مَكَّةَ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن طاؤس نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے احرام کے لیے ذوالحلیفہ، شام والوں کے لیے حجفہ، نجد والوں کے قرن منزل، یمن والوں کے یلملم متعین کیا۔ یہاں سے ان مقامات والے بھی احرام باندھیں اور ان کے علاوہ وہ لوگ بھی جو ان راستوں سے آئیں اور حج یا عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں۔ لیکن جن کا قیام میقات اور مکہ کے درمیان ہے تو وہ احرام اسی جگہ سے باندھیں جہاں سے انہیں سفر شروع کرنا ہے۔ یہاں تک کہ مکہ کے لوگ مکہ ہی سے احرام باندھیں۔
 
Top